Posts

غیر ذمہ دار والدین کے نام کھلا خط

 ۔.غیر ذمہ دار والدین کے نام کھلا خط۔۔ جنسی تشدد اور اغوا  میں آئے روز اضافے پر والدین اپنے بچوں کی کڑی نگرانی کریں۔ان کے گھر سے انے جانے ۔سکول ۔مدرسہ ۔۔ٹیوشن ۔مسجد کے اوقات اور حلقہ اثر چیک کیا کریں۔۔واٹس ایپ۔فیس بک ۔مسینجر ضرور چیک کریں۔بصورت دیگر سخت سزاء دیں۔ون ویلنگ اور تیزی رفتاری کے نقصانات سے تو اپ اگاہ ہونگے۔ جنسی تشدد میں فوری طور ایف آئی ار اور ہسپتال رپورٹ نہایت ضروری ہے۔ اس میں دیری سے شواہد ضائع ہوتے ہیں۔۔ بچوں کے باتوں اور حیلے بہانوں مکرو فریب  پر ہرگز پقین نہ کریں۔بچوں کے زبردست جھوٹ کو لاکھوں کوشیشوں کے باوجود  ابھی تک دنیا کی کوئی عدالت جھوٹ نہیں ثابت کرسکتی۔۔ بچوں کو غیر ضروری غم خادی ۔رشتہ داروں ۔دوستوں سے الگ تلگ رکھیں ۔گھروں میں بہن بھائیوں کے چارپائیوں اور کمروں کو الگ رکھیں ۔ان کے جیب۔بستہ۔اور موبائلز کو چیک کریں۔  بے حس والدہ کی طرف سے بچوں کی بے گناہی کے جھوٹے مدلیل مکرو فریب والے قیصوں پر ہرگز یقین نہ کریں۔ورنہ پچھتاوگے۔۔گھر سے باہر جانے سے پہلے بچوں کو ٹائم ٹیبل دیکر شام کو بازپرس کریں۔شام سے پہلے پہلے گھر پہچنے کی سختی سے تاکید کرنا...

ALLAH PAR BHAROSA

 پنجاب کے کسی  شہر میں ایک حکیم صاحب ہوا کرتے تھے، جن کا مطب ایک پرانی سی عمارت میں ہوتا تھا۔ حکیم صاحب روزانہ صبح مطب جانے سے قبل بیوی کو کہتے کہ جو کچھ آج کے دن کے لیے تم کو درکار ہے ایک چٹ پر لکھ کر دے دو۔ بیوی لکھ کر دے دیتی۔ آپ دکان پر آ کر سب سے پہلے وہ چٹ کھولتے۔ بیوی نے جو چیزیں لکھی ہوتیں۔ اُن کے سامنے اُن چیزوں کی قیمت درج کرتے، پھر اُن کا ٹوٹل کرتے۔ پھر اللہ سے دعا کرتے کہ یااللہ! میں صرف تیرے ہی حکم کی تعمیل میں تیری عبادت چھوڑ کر یہاں دنیا داری کے چکروں میں آ بیٹھا ہوں۔ جوں ہی تو میری آج کی مطلوبہ رقم کا بندوبست کر دے گا۔ میں اُسی وقت یہاں سے اُٹھ جائوں گا اور پھر یہی ہوتا۔ کبھی صبح کے ساڑھے نو، کبھی دس بجے حکیم صاحب مریضوں سے فارغ ہو کر واپس اپنے گائوں چلے جاتے۔ ایک دن حکیم صاحب نے دکان کھولی۔ رقم کا حساب لگانے کے لیے چِٹ کھولی تو وہ چِٹ کو دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے۔ ایک مرتبہ تو ان کا دماغ گھوم گیا۔ اُن کو اپنی آنکھوں کے سامنے تارے چمکتے ہوئے نظر آ رہے تھے لیکن جلد ہی انھوں نے اپنے اعصاب پر قابو پا لیا۔ آٹے دال وغیرہ کے بعد بیگم نے لکھا تھا، بیٹی کے جہیز کا سام...

har cheez allah se mang

 https://youtu.be/mvJAj46DZb8

حکیم وادھو مل جیکب آباد پُراسرار شخصیت ایک فقیر

Image
 سنڌ جو پراسرار حڪيم واڌو مل                 يادگيريون   عبدالغني مڱريو                               سندس دواخانو سکر  کان ڪوئٽه ويندڙ روڊ تي جيڪب آباد شھر کان ڪجھ ميل پھرين مين روڊ  تي آباد نالي ڳوٺ ۾ ھيو  مونکي ٻڌايو ويو ھيو ته حڪيم واڌومل منجھند ھڪ بجي کان ٽين بجي تائين مريض ڏسندو آھي ان ڪري 1997 جي شروع ڌاري مان اڌ ڪلاڪ اڳ سندس دواخاني تي پھچي ويس  دواخانو ڪجھ قدمن جي فاصلي تي ھيو روڊ کان دوا خاني تاءين ويڪري  ڪچي سڙڪ ھءي  ٻه ڏکڻ منھ ڪچيون ڪکايون ڪوٺيون  ۽ انھن جي اڳيان ڪکائون ڇپرو ھيو ڪمرن جو فرش به ڪچو ھيو ڪنڊ ۾ دوائن جي ٽيبل ۽ پراڻو ڪٻٽ  ديوار ۾ لڳل ھيو  حڪيم صاحب جي ويھڻ واري جاء تي عورتن واري ڪمري ڏانھن ديوار جو ڪجھ حصو کليل ۽ان تي پردو لڳل ھيو مريضن جي لاء  پراڻا موڙا ۽ پراڻي ڪاٺي جون بينچون پيل  ھيون  ديوار تي ڪاٺ جي تختيء تي قرآن پاڪ ۽ ان جي مٿان تازا گلاب جا گل پيل ھئا ۽ ...

من اور سلوا

 حضرت موسی علیہ السلام  چھ لاکھ بنی اسرائیل کے افراد کے ساتھ میدان تیہ میں مقیم تھے تو اللہ تعالی نے ان لوگوں کے کھانے کے لئے آسمان سے دو کھانے اتارے۔ ایک کا نام من اور دوسرے کا نام سلوی تھا۔ من بلکل سفید شہد کی طرح ایک حلوہ تھا یا سفید رنگ کی شہد ہی تھی جو روزانہ آسمان سے بارش کی طرح برستی تھی اور سلوی پکی ہوئی بٹیریں تھیں جو دکھنی ہوا کے ساتھ آسمان سے نازل ہوا کرتی تھیں۔ اللہ تعالی نے بنی اسرائیل پر اپنی نعمتوں کا شمار کراتے ہوئے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ: ترجمہ: اور تم پر من و سلوی اتارا۔ اس من و سلوی کے بارے میں حضرت موسی علیہ سلام کا یہ حکم تھا کہ روزانہ تم لوگ اس کو کھا لیا کرو اور کل کے لئے ہرگز ہرگز اس کا ذخیرہ مت کرنا۔ مگر بعض ضعیف الاعتقاد لوگوں کو یہ ڈر لگنے لگا کہ اگر کسی دن من و سلوی نہ اترا تو ہم لوگ اس بے آب و گیاہ، چٹیل میدان میں بھوکے مر جائینگے۔ چنانچہ ان لوگوں نے کچھ چھپا کر کل کے لئے رکھ لیا تو نبی کی نافرمانی سے ایسی نحوست پھیل گئی کہ جو کچھ لوگوں نے کل کے لئے جمع کیا تھا وہ سب سڑ گیا اور آئندہ کے لئے اس کا اترنا بند ہوگیا، اسی لئے حضور اکرم صلی اللّه ...

shan e mustafa

Image
 

short video