ابن ملجم کون تھا ?

 ابن ملجم کون تھا؟ 👉


حضرت علی علیہ سلام کی ظاہری خلافت کا زمانہ آیا تو حضرت علی نے یمن میں اپنے عامل نمایندے کو خط لکھا۔ اور اس سے درخواست کی کہ لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف سے پیش آۓ۔ 

اور آخر میں اس سے چاہا کہ دس لائق ترین اپنے معتمد افراد کو ایک خاص کام کےلیے حضرت علیؑ کے پاس بھیجے۔


اور اس نے سو افراد کو منتخب کیا۔ اور پھر ان میں دس لوگوں جو سبھی سے افضل اور اچھے تھے انتخاب کیا۔


ان دس لوگوں میں سے ابن ملجم مرادی بھی شامل تھا۔

جب یہ لوگ حضرت علیؑ کے پاس پہنچے۔

ابن ملجم شجاع فصیح و بلیغ تھا۔اس کو ان لوگوں نے اپنا سخن گو بنایا۔ تا کہ حضرت سے گفتگو کرے۔

اور مدح میں جو اس نے خود اشعار لکھے تھے وہ پڑھے۔

اس کی تمام باتوں میں ایک بات یہ تھی کہ ہم فخر کرتے ہیں۔ آپ فرمان دیں۔ 

ہم سب غلامی کریں۔

اور ہماری تلواریں آپ کے دشمن کےلیے آمادہ ہیں۔


حضرت علیؑ نے بعد میں اس کو اپنے پاس بلایا۔ اور فرمایا۔


تمھارا نام کیا ھے۔


اس نے کہا عبدالرحمن۔


حضرت نے کہا تمھارے باپ کا کیا نام ھے۔


اس نے کہا ملجم۔


حضرت نے کہا کس قبیلے سے ھو۔ اس نے کہا مراد سے۔


پھر حضرت نے اس سے تین مرتبہ کہا۔


کیا تم مرادی ھو۔

کیا تم مرادی ھو۔

کیا تم مرادی ھو۔


ابن ملجم نے جی ہاں یا امیرالمومینین ۔


اس وقت حضرت علیؑ نے زبان پر کلمہ استرجاع جاری کیا۔


إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ‎۔


ھم خدا ھی کے ھیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ھیں۔


حضرت نے اس سے پوچھا کیا تمھاری دایہ یہودی عورت تھی۔


کہا جی ہاں۔ جو عورت مجھے دودھ پلاتی تھی ایک یہودی عورت تھی۔


حضرت نے فرمایا جب تم روتے تھے تو تمھاری دایہ کہتی تھی۔


اے قاتل شترصالح سے بد تر۔


ابن ملجم نے کہا جی ہاں ایسا ھی تھا۔

حضرت خاموش ھو گیے۔اور حکم دیا کہ اس کی مہمان نوازی کریں۔ کچھ دنوں بعد ابن ملجم بیمار ھوا۔ کیونکہ وہاں اس کا کوئ نہ تھا۔ تو حضرت خود اس کی عیادت اور خدمت کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ صحیح ھو گیا۔

ابن ملجم اس قدر حضرت کی محبت کا شیفتہ ھو گیا۔


عرض کیا۔ کہ میں اپ کے پاس سے نہیں جاوں گا۔ اور اب یہی رھوں گا۔

حضرت نے فرمایا۔


إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ‎۔


ابن ملجم نے کہا اس آیت کے پڑھنے سے آپ کی کیا مراد ھے؟


حضرت نے فرمایا تم میرے قاتل ھو۔ ابن ملجم کو اس بات سے تعجب ھوا۔ اور سوچ رہا تھا کہ حضرت کا دوست و محب ھوں۔ لیکن یہ نہی جانتا تھا کہ خدا وند عالم سبھی انسانوں کا امتحان لیتا ھے۔ جو شخص محبت کا دعوی کرتا ھے۔ اس کے اوپر ہزاروں امتحان ھوتے ھیں۔


ابن ملجم نے اپنا سر پیٹ لیا۔اور کہا امیرالمومینین ابھی اسی وقت مجھے قتل کر دیں تا کہ ایسا حادثہ پیش نہ آے۔

حضرت نے فرمایا تم نے ابھی کوئی ایسا کام انجام نہیں دیا میں کیسے جرم سے پہلے قصاص لوں۔


ابن ملجم صفین و نہروان کی جنگوں میں حضرت علیؑ کے قافلے کے ساتھ ساتھ تھا۔


جب لشکر اسلام نے خوارج پر غلبہ حاصل کیا۔ تو ابن ملجم نے کہا مولا اجازت دیں۔ میں اپ سے پہلے کوفہ جا کر اپ کی فتح و کامیابی کی کی خوشخبری کوفہ والوں کو دوں۔


حضرت نے کہا تمھارا مقصد اس کام سے کیا ھے۔


اس نے کہا میں چاہتا ھوں خدا مجھ سے راضی ھو جاۓ۔ کہ حضرت علی کی کامیابی سے لوگوں کو خوشحال کروں۔


حضرت علی نے اجازت دی۔ اس نے ایک جھنڈا ہاتھ میں لیا کوفہ کی طرف گیا۔ شہر میں داخل ھوا اور بشارت بشارت کی فریاد شہر میں گونجی اسی طرح وہ گلیوں سے گزر رہا تھا۔ کہ قطامہ کے گھر کے پاس پہونچا یہ بہت خوبصورت حسین و جمیل اور دولت مند عورت تھی۔ لیکن بدکار اور فحاشہ عورت تھی۔ جب اس نے فتح کی خبر سنی ابن ملجم کو پکارا تاکہ وہ اپنے باپ اور بھائی کے بارے پوچھے۔


قطامہ اسے اپنے گھر لے گئ۔ عزت و احترام کیا مہمان نوازی کی۔


ابن ملجم پہلی ھی نگاہ میں اس کا عاشق ھو گیا۔ اور اپنے دین و ایمان کو اس کے ہاتھوں میں بیچ دیا۔ قطامہ نے اپنے باپ اور بھائی کے بارے میں پوچھا جو سپہ خوارج میں سے تھے۔ ابن ملجم نے کہا وہ سب جنگ میں ہلاک ھو گئے ۔


یہ خبر سنتے ھی وہ رونے لگی۔ ابن ملجم اس خبر کو دینے پر پشمان ھوا۔


قطامہ تھوڑی دیر بعد اٹھی اور دوسرے کمرے میں گئی ۔ اپنے اپ کو آرائش و زینت سے سنوارا۔ اور واپس آئی ۔ اس کو دیکھتے ھی ابن ملجم کا دل لرز گیا۔


ابن ملجم شہوت نفسانی میں اسیر اور اپنے اختیار کو اپنے ہاتھ سے دے بیھٹا تھا۔ قطامہ سے خواستگاری کی قطامہ نے کہا اگر مجھے چاھتے ھو تو میرا مہر بہت زیادہ ھے۔


ابن ملجم نے کہا جتنا بھی ھوگا دوں گا۔ قبول کروں گا۔ قطامہ نے کہا زیادہ ھے۔


کچھ پیسے ٫ جواہرات ٫ مشک ٫ عنبر ٫ عطر وغیرہ ابن ملجم نے کہا اور کچھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قطامہ نے کہا بہت کچھ۔


پھر وہ اٹھی اور کمرے سے گیئ۔ اور اپنے اپ کو دوسرے طریقے سے اراستہ کیا۔ اور واپس ائ۔


ابن ملجم جو جنون کی حد تک پہنچ گیا تھا کہا اور کیا چاھتی ھو۔ قطامہ نے کہا۔


حضرت علی کا قتل۔


ابن ملجم ایک دم لرزہ۔ اور پریشان ھوا۔ تھوڑی دیر بعد کہا۔


مشکل ھے۔


ابھی چھوڑو چند دنوں بعد اس کے بارے فکر کروں گا۔

دوسرے دن ایک قاصد یمن سے ابن ملجم کے پاس آیا ۔ اور کہا۔ تمھارا باپ اور چچا مر گئے ھیں۔ اور تم ان سب کے وارث ھو۔ جاو اپنے اموال کو جمع کرو۔ ابن ملجم بہت خوش ھوا۔ دل میں سوچ رہا تھا کہ پیسے لے کر قطامہ پر نثار کروں گا۔ اس وجہ سے حضرت علی کے پاس گیا۔ اور کہا۔ میرے باپ اور چچا کایمن میں انتقال ھو گیا ھے۔ چاھتا ھوں کہ اپنے قبیلے کے پاس چلا جاوں۔ اپ اپنے عامل کے پاس یمن میں خط لکھ دیں اور سفارش کریں کہ میراث کے اموال میں جمع اوری میں مدد کرے۔


ابن ملجم یمن کی طرف چلا۔ راستے میں رات ھو گئی ۔ دور سے آگ کا شعلا دیکھا اپنے دل میں سوچا کہ نزدیک جائے ۔ اور رات کو آگ کے پاس جا کر رھے۔


جب آگ کے نزدیک ھوا تو اچانک جناتوں نے فریاد کی۔


اسد اللہ کا قاتل آگیا۔


ابن ملجم ڈرا اور کانپنے لگا۔ جناتوں نے اس پر سنگ باری شروع کردی۔ وہ وہاں نہ رہ سکا کہ ارام کرے۔ تھکا ماندہ وہاں سے بھاگا اور زحمت سہتا ھوا یمن پونچا۔ اور خط یمن کے حاکم کو دیا۔


حاکم نے دستخط حضرت علی کو بوسہ دیا اور انکھوں سے لگایا۔ اور جلد از جلد اس کے کام کو پورا کیا۔ ابن ملجم نے اپنے تمام اموال لیے اور خوشی خوشی کوفہ کی طرف چلا۔ لیکن راستے میں ڈاکووں راہزنوں نے اس کو روکا۔ اور اس کے لباس اور سواری کے علاوہ تمام اموال لوٹ لیا۔


ابن ملجم جنگل میں سرگرداں تھا۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد ایک قافلے سے جا ملا۔ ان کے ساتھ ھم سفر ھو گیا۔ قافلا میں وہ دو شخص کا دوست ھو گیا۔ ان دونوں کا تعلق خوارج سے تھا۔ ان لوگوں نے کہا ھم نے عہد کیا ھے کہ حضرت علی ٫ معاویہ ٫ عمرو عاص کو قتل کریں گے۔


ان لوگوں کا نظریہ تھا کہ تینوں لوگ مسلمانوں کے درمیان اختلاف کا سبب ھیں۔ وہ دونوں خارجی معمور ھوے کہ معاویہ اور عمرو عاص کو قتل کریں گے۔


چناچہ عبدالرحمن نے قبول کیا کہ وہ حضرت علیؑ کو شہید کرے۔


وہ کوفہ پونچا اور سیدھا قطامہ کے گھر گیا۔ یہ فحاشہ اور خود فروش عورت اس کے لیے شراب لای اور ابن ملجم مست ھوا۔اور قطامہ کے پاوں پر گرا۔ اور اس کے وصال کی خوائش کی۔ لیکن قطامہ نے کہا۔


جب تک حضرت علی کو شہید نہیں کرو گے تب تک ایسا نہیں ھو سکتا۔


ابن ملجم جو مجنوں پاگل ھو چکا تھا اس نے کہا کہ ابھی جاتا ھوں اور حضرت علی کو قتل کرتا ھوں۔


قطامہ نے کہا کہ اس طرح نہیں۔ بلکہ قتل کے لیے مقدمات ضروری ھیں۔ اس نے ابن ملجم کی تلوار کی دھار تیز کروانے کے لیے ھزار درھم دییے۔


اور ھزار درھم تلوار زھر آلود کرنے کے لییے دییے۔ 


اس رات بد نصیب و بے حیا شقی القلب نے مہراب مسجد کوفہ میں حضرت علی علیہ السلام پر وار کیا۔ اور تلوار سے ایسا زخم لگایا جس کے اثر سے دو روز بعد جانشین رسول خدا وصی مصطفی شہید ھو گئے ۔


إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ‎۔


کتاب مولائ داستانیں

صفحہ 34

مصنف: شہید محراب آیت اللہ دستغیب شیرازی۔ابن ملجم کون تھا؟ 👉


حضرت علی علیہ سلام کی ظاہری خلافت کا زمانہ آیا تو حضرت علی نے یمن میں اپنے عامل نمایندے کو خط لکھا۔ اور اس سے درخواست کی کہ لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف سے پیش آۓ۔ 

اور آخر میں اس سے چاہا کہ دس لائق ترین اپنے معتمد افراد کو ایک خاص کام کےلیے حضرت علیؑ کے پاس بھیجے۔


اور اس نے سو افراد کو منتخب کیا۔ اور پھر ان میں دس لوگوں جو سبھی سے افضل اور اچھے تھے انتخاب کیا۔


ان دس لوگوں میں سے ابن ملجم مرادی بھی شامل تھا۔

جب یہ لوگ حضرت علیؑ کے پاس پہنچے۔

ابن ملجم شجاع فصیح و بلیغ تھا۔اس کو ان لوگوں نے اپنا سخن گو بنایا۔ تا کہ حضرت سے گفتگو کرے۔

اور مدح میں جو اس نے خود اشعار لکھے تھے وہ پڑھے۔

اس کی تمام باتوں میں ایک بات یہ تھی کہ ہم فخر کرتے ہیں۔ آپ فرمان دیں۔ 

ہم سب غلامی کریں۔

اور ہماری تلواریں آپ کے دشمن کےلیے آمادہ ہیں۔


حضرت علیؑ نے بعد میں اس کو اپنے پاس بلایا۔ اور فرمایا۔


تمھارا نام کیا ھے۔


اس نے کہا عبدالرحمن۔


حضرت نے کہا تمھارے باپ کا کیا نام ھے۔


اس نے کہا ملجم۔


حضرت نے کہا کس قبیلے سے ھو۔ اس نے کہا مراد سے۔


پھر حضرت نے اس سے تین مرتبہ کہا۔


کیا تم مرادی ھو۔

کیا تم مرادی ھو۔

کیا تم مرادی ھو۔


ابن ملجم نے جی ہاں یا امیرالمومینین ۔


اس وقت حضرت علیؑ نے زبان پر کلمہ استرجاع جاری کیا۔


إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ‎۔


ھم خدا ھی کے ھیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ھیں۔


حضرت نے اس سے پوچھا کیا تمھاری دایہ یہودی عورت تھی۔


کہا جی ہاں۔ جو عورت مجھے دودھ پلاتی تھی ایک یہودی عورت تھی۔


حضرت نے فرمایا جب تم روتے تھے تو تمھاری دایہ کہتی تھی۔


اے قاتل شترصالح سے بد تر۔


ابن ملجم نے کہا جی ہاں ایسا ھی تھا۔

حضرت خاموش ھو گیے۔اور حکم دیا کہ اس کی مہمان نوازی کریں۔ کچھ دنوں بعد ابن ملجم بیمار ھوا۔ کیونکہ وہاں اس کا کوئ نہ تھا۔ تو حضرت خود اس کی عیادت اور خدمت کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ صحیح ھو گیا۔

ابن ملجم اس قدر حضرت کی محبت کا شیفتہ ھو گیا۔


عرض کیا۔ کہ میں اپ کے پاس سے نہیں جاوں گا۔ اور اب یہی رھوں گا۔

حضرت نے فرمایا۔


إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ‎۔


ابن ملجم نے کہا اس آیت کے پڑھنے سے آپ کی کیا مراد ھے؟


حضرت نے فرمایا تم میرے قاتل ھو۔ ابن ملجم کو اس بات سے تعجب ھوا۔ اور سوچ رہا تھا کہ حضرت کا دوست و محب ھوں۔ لیکن یہ نہی جانتا تھا کہ خدا وند عالم سبھی انسانوں کا امتحان لیتا ھے۔ جو شخص محبت کا دعوی کرتا ھے۔ اس کے اوپر ہزاروں امتحان ھوتے ھیں۔


ابن ملجم نے اپنا سر پیٹ لیا۔اور کہا امیرالمومینین ابھی اسی وقت مجھے قتل کر دیں تا کہ ایسا حادثہ پیش نہ آے۔

حضرت نے فرمایا تم نے ابھی کوئی ایسا کام انجام نہیں دیا میں کیسے جرم سے پہلے قصاص لوں۔


ابن ملجم صفین و نہروان کی جنگوں میں حضرت علیؑ کے قافلے کے ساتھ ساتھ تھا۔


جب لشکر اسلام نے خوارج پر غلبہ حاصل کیا۔ تو ابن ملجم نے کہا مولا اجازت دیں۔ میں اپ سے پہلے کوفہ جا کر اپ کی فتح و کامیابی کی کی خوشخبری کوفہ والوں کو دوں۔


حضرت نے کہا تمھارا مقصد اس کام سے کیا ھے۔


اس نے کہا میں چاہتا ھوں خدا مجھ سے راضی ھو جاۓ۔ کہ حضرت علی کی کامیابی سے لوگوں کو خوشحال کروں۔


حضرت علی نے اجازت دی۔ اس نے ایک جھنڈا ہاتھ میں لیا کوفہ کی طرف گیا۔ شہر میں داخل ھوا اور بشارت بشارت کی فریاد شہر میں گونجی اسی طرح وہ گلیوں سے گزر رہا تھا۔ کہ قطامہ کے گھر کے پاس پہونچا یہ بہت خوبصورت حسین و جمیل اور دولت مند عورت تھی۔ لیکن بدکار اور فحاشہ عورت تھی۔ جب اس نے فتح کی خبر سنی ابن ملجم کو پکارا تاکہ وہ اپنے باپ اور بھائی کے بارے پوچھے۔


قطامہ اسے اپنے گھر لے گئ۔ عزت و احترام کیا مہمان نوازی کی۔


ابن ملجم پہلی ھی نگاہ میں اس کا عاشق ھو گیا۔ اور اپنے دین و ایمان کو اس کے ہاتھوں میں بیچ دیا۔ قطامہ نے اپنے باپ اور بھائی کے بارے میں پوچھا جو سپہ خوارج میں سے تھے۔ ابن ملجم نے کہا وہ سب جنگ میں ہلاک ھو گئے ۔


یہ خبر سنتے ھی وہ رونے لگی۔ ابن ملجم اس خبر کو دینے پر پشمان ھوا۔


قطامہ تھوڑی دیر بعد اٹھی اور دوسرے کمرے میں گئی ۔ اپنے اپ کو آرائش و زینت سے سنوارا۔ اور واپس آئی ۔ اس کو دیکھتے ھی ابن ملجم کا دل لرز گیا۔


ابن ملجم شہوت نفسانی میں اسیر اور اپنے اختیار کو اپنے ہاتھ سے دے بیھٹا تھا۔ قطامہ سے خواستگاری کی قطامہ نے کہا اگر مجھے چاھتے ھو تو میرا مہر بہت زیادہ ھے۔


ابن ملجم نے کہا جتنا بھی ھوگا دوں گا۔ قبول کروں گا۔ قطامہ نے کہا زیادہ ھے۔


کچھ پیسے ٫ جواہرات ٫ مشک ٫ عنبر ٫ عطر وغیرہ ابن ملجم نے کہا اور کچھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قطامہ نے کہا بہت کچھ۔


پھر وہ اٹھی اور کمرے سے گیئ۔ اور اپنے اپ کو دوسرے طریقے سے اراستہ کیا۔ اور واپس ائ۔


ابن ملجم جو جنون کی حد تک پہنچ گیا تھا کہا اور کیا چاھتی ھو۔ قطامہ نے کہا۔


حضرت علی کا قتل۔


ابن ملجم ایک دم لرزہ۔ اور پریشان ھوا۔ تھوڑی دیر بعد کہا۔


مشکل ھے۔


ابھی چھوڑو چند دنوں بعد اس کے بارے فکر کروں گا۔

دوسرے دن ایک قاصد یمن سے ابن ملجم کے پاس آیا ۔ اور کہا۔ تمھارا باپ اور چچا مر گئے ھیں۔ اور تم ان سب کے وارث ھو۔ جاو اپنے اموال کو جمع کرو۔ ابن ملجم بہت خوش ھوا۔ دل میں سوچ رہا تھا کہ پیسے لے کر قطامہ پر نثار کروں گا۔ اس وجہ سے حضرت علی کے پاس گیا۔ اور کہا۔ میرے باپ اور چچا کایمن میں انتقال ھو گیا ھے۔ چاھتا ھوں کہ اپنے قبیلے کے پاس چلا جاوں۔ اپ اپنے عامل کے پاس یمن میں خط لکھ دیں اور سفارش کریں کہ میراث کے اموال میں جمع اوری میں مدد کرے۔


ابن ملجم یمن کی طرف چلا۔ راستے میں رات ھو گئی ۔ دور سے آگ کا شعلا دیکھا اپنے دل میں سوچا کہ نزدیک جائے ۔ اور رات کو آگ کے پاس جا کر رھے۔


جب آگ کے نزدیک ھوا تو اچانک جناتوں نے فریاد کی۔


اسد اللہ کا قاتل آگیا۔


ابن ملجم ڈرا اور کانپنے لگا۔ جناتوں نے اس پر سنگ باری شروع کردی۔ وہ وہاں نہ رہ سکا کہ ارام کرے۔ تھکا ماندہ وہاں سے بھاگا اور زحمت سہتا ھوا یمن پونچا۔ اور خط یمن کے حاکم کو دیا۔


حاکم نے دستخط حضرت علی کو بوسہ دیا اور انکھوں سے لگایا۔ اور جلد از جلد اس کے کام کو پورا کیا۔ ابن ملجم نے اپنے تمام اموال لیے اور خوشی خوشی کوفہ کی طرف چلا۔ لیکن راستے میں ڈاکووں راہزنوں نے اس کو روکا۔ اور اس کے لباس اور سواری کے علاوہ تمام اموال لوٹ لیا۔


ابن ملجم جنگل میں سرگرداں تھا۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد ایک قافلے سے جا ملا۔ ان کے ساتھ ھم سفر ھو گیا۔ قافلا میں وہ دو شخص کا دوست ھو گیا۔ ان دونوں کا تعلق خوارج سے تھا۔ ان لوگوں نے کہا ھم نے عہد کیا ھے کہ حضرت علی ٫ معاویہ ٫ عمرو عاص کو قتل کریں گے۔


ان لوگوں کا نظریہ تھا کہ تینوں لوگ مسلمانوں کے درمیان اختلاف کا سبب ھیں۔ وہ دونوں خارجی معمور ھوے کہ معاویہ اور عمرو عاص کو قتل کریں گے۔


چناچہ عبدالرحمن نے قبول کیا کہ وہ حضرت علیؑ کو شہید کرے۔


وہ کوفہ پونچا اور سیدھا قطامہ کے گھر گیا۔ یہ فحاشہ اور خود فروش عورت اس کے لیے شراب لای اور ابن ملجم مست ھوا۔اور قطامہ کے پاوں پر گرا۔ اور اس کے وصال کی خوائش کی۔ لیکن قطامہ نے کہا۔


جب تک حضرت علی کو شہید نہیں کرو گے تب تک ایسا نہیں ھو سکتا۔


ابن ملجم جو مجنوں پاگل ھو چکا تھا اس نے کہا کہ ابھی جاتا ھوں اور حضرت علی کو قتل کرتا ھوں۔


قطامہ نے کہا کہ اس طرح نہیں۔ بلکہ قتل کے لیے مقدمات ضروری ھیں۔ اس نے ابن ملجم کی تلوار کی دھار تیز کروانے کے لیے ھزار درھم دییے۔


اور ھزار درھم تلوار زھر آلود کرنے کے لییے دییے۔ 


اس رات بد نصیب و بے حیا شقی القلب نے مہراب مسجد کوفہ میں حضرت علی علیہ السلام پر وار کیا۔ اور تلوار سے ایسا زخم لگایا جس کے اثر سے دو روز بعد جانشین رسول خدا وصی مصطفی شہید ھو گئے ۔


إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ‎۔


کتاب مولائ داستانیں

صفحہ 34

مصنف: شہید محراب آیت اللہ دستغیب شیرازی۔


Comments

Popular posts from this blog

ILIM DOLAT SE BEHTAR HAI

ABDULLAH SHAH GHAZI